16 ستمبر 2014 - 08:50
یمن، حکومت اور الحوثی گروہ میں مذاکرات ملتوی

یمن میں انصاراللہ الحوثي تحریک نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات ملتوی کر دئے ہیں اور اس کی وجہ انہوں نے غیر ملکی فریق کی جانب سے کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انصاراللہ الحوثي تحریک کے ترجمان محمد عبد السلام نے پیر کو کہا کہ غیر ملکی فریق صورتحال کو صفر پر پھر سے پہنچانا چاہتا ہے۔ الحوثي ذرائع کا کہنا ہے کہ يمني عوام کے مطالبات کو پورا کرنے سے متعلق معاہدہ آخری مرحلے میں تھا کہ غیر ملکی فریق نے مداخلت کر دیا۔ کچھ میڈیا رپورٹوں کے مطابق يمني صدر عبد ربه منصور ہادی نے اس معاہدے کو منظوری دے دی تھی۔ انقلابی گروہ کا کہنا ہے کہ اس تعطل کے بعد وہ انقلاب کو مزید وسیع کرے گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے يمني حکام سے اس ملک میں 7  اور9  ستمبر کو دارالحکومت صنعا میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے کے خلاف بہت زیادہ طاقت کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یمن میں انصاراللہ الحوثي تحریک يمني حکومت کے اقتدار سے ہٹنے کے مطالبے کو لے کر اس ملک میں 20  اگست سے مظاہرے کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت بدعنوان ہے اور وہ اس ملک میں اقلیت کو حاشیے پر دھکیل رہی ہے۔

واضح رہے یمن میں الحوثي تحریک نے اس ملک میں فروری 2012 میں آئے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں اس ملک کے ڈکٹیٹر عبداللہ صالح کی تیس سالہ آمریت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
.......

/169